پنجی، 15 اپریل(ایس او نیوز؍آئی این ایس انڈیا)سابق وزیر دفاع منوہر پاریکر نے پاکستان کاموازنہ ایک مشہور کہاوت خالی ڈبے سب سے زیادہ شور کرتے ہیں سے کرتے ہوئے اسے مسترد کیا اور کہا کہ پڑوسی ملک پاکستان کو مصروف رہنے کے لئے کچھ نہ کچھ چاہئے ہوتا ہے۔پاریکر کا یہ بیان ہندوستانی شہری کلبھوشن کو پاکستان کی ایک فوجی عدالت کی جانب سے موت کی سزا سنائی جانے کے پس منظر میں آیا ہے۔سابق وزیر دفاع اورفی الحال گوا کے وزیر اعلی پاریکر نے انٹرویو کے دوران پاکستان کے بارے میں ایک سوال کے جواب میں کہا کہ کونکن زبان اور ہندی میں ایک کہاوت ہے جس کا مطلب ہے خالی ڈبے سب سے زیادہ شور کرتے ہیں، جو وہ( پاکستان) کہتے ہیں ہمیں اس پر زیادہ توجہ نہیں دینا چاہئے۔ انہوں نے کہا کہ پاکستان کو مصروف رہنے کے لئے کچھ نہ کچھ چاہئے ہوتا ہے، وہ خطرناک کھیل کھیل رہا ہے، پاکستان خود کو بھلے ہی کیسا بھی دکھائے، لیکن اسے سمجھنا چاہئے کہ اگر ہندوستان نے جوابی کارروائی شروع کی تو اس کے پاس مقابلہ کرنے کی طاقت نہیں ہے۔ انہوں نے کہا کہ لیکن ہم امن پسند ہیں، ہم اشتعال نہیں چاہتے، اس لیے انہیں جادھو کو واپس بھیج دینا چاہئے۔ انہوں نے کہاکہ پہلے انہوں نے جادھو کو اغوا کیا، وہ پاکستان میں نہیں تھے، وہ ایران میں تھے۔ ایران نے کہا ہے کہ طالبان نے ان کا اغوا کیا اور اسے پاکستان لے گیا، پاکستان کی کچھ نہ کچھ کرنے کی عادت ہے۔ پاریکر نے کہا کہ وزیر خارجہ سشما سوراج نے مناسب جواب دیا ہے کہ اگر جادھو کو پاکستان پھانسی پر لٹکاتاہے تو ہندوستان خاموش نہیں بیٹھے گا۔انہوں نے کہا کہ وہ جوہری طاقت کے استعمال کی بات کرتے تھے لیکن سرجیکل اسٹرائیک کے بعد انہوں نے وہ باتیں کرنا بند کر دیں، مجھے امید ہے کہ وہ سمجھ گئے ہوں گے کہ وہ ہمیں بلیک میل نہیں کر سکتے کیونکہ ہندوستان کے پاس ان سے لوہا لینے کی طاقت ہے۔ پاکستان اور چین جیسے پڑوسی ملکوں کے ساتھ تعلقات پر انہوں نے کہا کہ نرم حکمت عملی ہے اور سخت طاقت کا استعمال بھی، یہ پہلی بار ہوا ہے۔ انہوں نے کہا کہ وزیر دفاع کی ان کی مدت کے دوران ملک کی فوجی طاقت کو بڑھانے کے لئے متعدد اقدامات کئے گئے تھے۔